اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، شہید محسن حسن حمود کی تشییع میں حزب اللہ کے اراکین، شہداء کے اہلِ خانہ، سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات کے علاوہ بڑی تعداد میں شہری شریک ہوئے۔ شہید کے جسدِ خاکی کو انقلابی نعروں، میں قبرستان تک پہنچایا گیا۔
اس موقع پر شیخ عباس دیبہ نے نمازِ جنازہ پڑھائی، جس کے بعد شہید کو مشغرہ کے قبرستانِ شہداء میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
شہید کے والد نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کے بیٹے نے مکتبِ عاشورا میں تربیت پائی تھی، اسی لیے اس نے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام مشکلات کے باوجود شہداء کا راستہ اور ان کے مشن سے وفاداری جاری رہے گی۔
شہید کی والدہ نے بھی اپنے فرزند کی شہادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مکتبِ امام حسینؑ کا پروردہ تھا، اور اس کی شہادت ان کے خاندان کے لیے عزت و سربلندی کا باعث ہے۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے شہداء کے مشن کو جاری رکھنے، ان کی قربانیوں کی پاسداری کرنے اور ایثار و فداکاری کی اقدار پر ثابت قدم رہنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
آپ کا تبصرہ